
(24 نیوز)والدین کی ہمیشہ یہی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے زندگی کے ہر مرحلے میں کامیاب ہوں اور مشکل حالات کا ہمت و حوصلے سے سامنا کریں۔
اس مقصد کے لیے انہیں اچھی تعلیم دلانا ضروری ہے، تاہم صرف کتابی علم ہی بچوں کو عملی زندگی کے لیے تیار نہیں کرتا۔
بچوں کو روزمرہ زندگی کے بنیادی کام، ذمہ داری، نظم و ضبط اور دوسروں سے بہتر انداز میں بات چیت کرنے کی تربیت بھی دینا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق بچوں کو کم عمری سے ہی عملی زندگی کی ضروری مہارتیں سکھائی جائیں تو وہ مستقبل میں زیادہ پراعتماد اور خودمختار بن سکتے ہیں۔
1۔ کھانا پکانے کی بنیادی مہارت
بچوں کو عمر کے مطابق کھانے کی تیاری، بنیادی پکوان بنانے اور کھانے کو محفوظ رکھنے کے طریقے سکھائیں، اس سے وہ مستقبل میں اپنی ضروریات کے مطابق صحت بخش کھانا خود تیار کرنے کے قابل ہوں گے۔
2۔ وقت کی قدر اور درست استعمال
وقت کی منصوبہ بندی اور ترجیحات طے کرنا سکھانا بھی ضروری ہے، انہیں روزمرہ کاموں کا شیڈول بنانے، اہم کام پہلے مکمل کرنے اور مقررہ وقت پر ذمہ داریاں نبھانے کی عادت ڈالیں۔
3۔ نظم و ضبط اور صفائی
بچوں کو اپنے ذاتی کام خود کرنے کی تربیت دیں، کپڑے ترتیب سے رکھنا، کمرہ صاف کرنا، گھر کے معمولی کاموں میں ہاتھ بٹانا اور صبح اٹھ کر اپنا بستر درست کرنا جیسی عادات ان میں ذمہ داری اور خود نظم و ضبط پیدا کرتی ہیں۔
4۔ پیسوں کا درست استعمال
بچوں کو کم عمری سے ہی مالی معاملات کی بنیادی سمجھ دینا فائدہ مند ہے، انہیں بجٹ، بچت اور ضروریات و خواہشات کے درمیان فرق سمجھائیں، خریداری کے دوران بچوں کو ساتھ لے جانے سے انہیں قیمتوں کا اندازہ، اشیا کا انتخاب اور رقم کے درست استعمال کا عملی تجربہ بھی حاصل ہوتا ہے۔
5۔ گھر کے بنیادی کام
بچوں کو گھر کے چھوٹے موٹے کاموں سے بھی روشناس کرائیں، مثلاً بلب تبدیل کرنا، معمولی لیکیج کی نشاندہی کرنا یا گھر کی اشیا کو درست طریقے سے استعمال کرنا، تاہم بجلی، اوزار یا دیگر خطرناک کام بچوں کو ہمیشہ بڑوں کی نگرانی اور رہنمائی میں سکھائے جائیں۔
6۔ باغبانی کی عادت
بچوں کو پودے لگانے اور ان کی دیکھ بھال کا موقع دیں، سبزیاں یا پھل اگانے کے عمل سے انہیں اندازہ ہوگا کہ کھانا کس طرح پیدا ہوتا ہے، باغبانی بچوں میں صبر، ذمہ داری اور ماحول کے حوالے سے شعور بھی پیدا کرسکتی ہے۔
7۔ ابتدائی طبی امداد
بچوں کو ہنگامی حالات میں بنیادی احتیاطی تدابیر اور ابتدائی طبی امداد کے اصول سکھانا اہم ہے، معمولی زخم کی صفائی اور مرہم پٹی، ہنگامی صورت حال میں مدد طلب کرنا اور بنیادی حفاظتی اقدامات جیسی مہارتیں انہیں مشکل وقت میں بہتر فیصلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
8۔ سلائی کی بنیادی مہارت
بچوں کو بٹن لگانے یا کپڑے کی معمولی سلائی جیسے بنیادی کام سکھائے جاسکتے ہیں، یہ مہارت خاص طور پر اس وقت کارآمد ثابت ہوتی ہے جب بچے تعلیم یا ملازمت کے سلسلے میں گھر سے دور رہیں اور انہیں اپنے معمولی کام خود انجام دینا پڑیں۔
9۔ تخلیقی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی عادت
بچوں کو ہر کام میں فوری مدد دینے کے بجائے بعض اوقات انہیں خود حل تلاش کرنے کا موقع دیں، دستکاری، گھر کی سجاوٹ، لکڑی کے سادہ منصوبوں یا دیگر تخلیقی سرگرمیوں کے ذریعے ان کی سوچنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
10۔ مؤثر گفتگو اور دوسروں کو سننے کا ہنر
بچوں کو اپنی بات واضح اور مؤدبانہ انداز میں بیان کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کی بات توجہ سے سننے کی عادت بھی ڈالیں، والدین کو چاہیے کہ جب بچہ کوئی بات کرنا چاہے تو اسے نظرانداز کرنے کے بجائے تحمل سے سنیں، اس سے بچے میں اعتماد پیدا ہوگا اور وہ مستقبل میں اپنے مسائل اور احساسات بہتر انداز میں بیان کر سکے گا۔
عملی تربیت بھی ضروری
بچوں کی کامیاب تربیت صرف اچھی تعلیم تک محدود نہیں، انہیں روزمرہ زندگی کی بنیادی مہارتیں، ذمہ داری، خود انحصاری اور مشکل حالات میں درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی سکھانا ضروری ہے، والدین اگر بچوں کو عمر کے مطابق یہ ہنر عملی طور پر سکھائیں تو وہ مستقبل میں زیادہ پراعتماد، ذمہ دار اور خودمختار زندگی گزارنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔






