
(24 نیوز)طالبان حکومت نے افغانستان میں تمام مظاہروں پر پابندی عائد کرتے ہوئے پولیس سے متعلق نیا قانون نافذ کردیا، جس کے تحت ملک بھر میں کسی بھی قسم کے احتجاجی مظاہرے کی اجازت نہیں ہوگی۔
افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق طالبان کی وزارتِ انصاف نے ہفتہ 22 اگست کو پولیس سے متعلق نیا قانون جاری کیا، جسے سرکاری گزٹ میں بھی شائع کیا گیا ہے۔
قانون کی منظوری طالبان کے سربراہ ہبت اللہ اخوندزادہ نے دی ہے۔
نئے قانون میں پولیس کے لیے ’شرطہ‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں:برطانیہ میں ٹریفک حادثہ، 7 افراد ہلاک
قانون 53 دفعات پر مشتمل ہے اور اس کی دفعہ 50 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’پورے افغانستان میں تمام مظاہرے ممنوع ہیں۔
رپورٹ کے مطابق طالبان نے گزشتہ پانچ برس کے دوران بھی عوامی مظاہروں کی حوصلہ شکنی کی ہے۔
دوسری طرف مختلف مواقع پر احتجاج کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن، گرفتاریوں، تشدد اور فائرنگ کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
طالبان اس سے قبل سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کرچکا ہے۔
گروپ سیاسی کثرتیت اور سیاسی جماعتوں و تحریکوں کے آزادانہ طور پر کام کرنے کو تسلیم نہیں کرتا۔






