5

لوڈشیڈنگ کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ! اہم منصوبے نے پورا منظرنامہ بدل دیا

( ویب ڈیسک ) تنزانیہ نے ملک کے سب سے بڑے پن بجلی منصوبے کو باقاعدہ فعال کردیا، جس کے بعد ملک کی مجموعی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت دوگنا سے زیادہ ہوگئی ہے اور اب اضافی بجلی برآمد کرنے کی راہ بھی ہموار ہوگئی ہے۔

 غیر ملکی خبر رساں ادارے کے  مطابق صدر سامیہ سلوحو حسن نے ہفتے کے روز جولیئس نیریرے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کا افتتاح کیا۔ دریائے روفیجی پر تعمیر کیے گئے اس منصوبے کی پیداواری صلاحیت 2,115 میگاواٹ ہے، جبکہ اس پر تقریباً 7.45 ٹریلین تنزانیہ شلنگ، یعنی 2.84 ارب ڈالر لاگت آئی ہے۔

توانائی کے وزیر ڈیوگریشیئس ندیجمبی کے مطابق منصوبے کے فعال ہونے کے بعد تنزانیہ کی مجموعی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 4,646 میگاواٹ ہوگئی ہے، جبکہ ملک کی زیادہ سے زیادہ طلب تقریباً 2,271 میگاواٹ ہے۔ اس طرح ملک کے پاس تقریباً 2,375 میگاواٹ اضافی بجلی دستیاب ہوگی، جسے برآمد کیا جاسکتا ہے۔

وزیر توانائی کے مطابق تنزانیہ پہلے ہی کینیا اور زیمبیا سمیت کئی ممالک کو بجلی برآمد کرنے کے حوالے سے بات چیت کررہا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں:پاکستانی نوجوان کی محبت امریکی خاتون کو پاکستان کھینچ لائی، نکاح کر لیا

صدر سامیہ حسن نے کہا کہ نئے منصوبے سے ماضی میں بار بار ہونے والی بجلی کی بندش پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور کاروبار، سرمایہ کاری، صنعتی پیداوار اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔

منصوبے کی تعمیر 2019 میں شروع ہوئی تھی، تاہم ماحولیاتی تحفظ کی تنظیموں نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ناقدین کے مطابق دریائے روفیجی پر ڈیم کی تعمیر سے سیلوس گیم ریزرو کے جنگلی حیات اور زیریں علاقوں کے قدرتی ماحول پر اثر پڑ سکتا ہے۔ یہ علاقہ افریقہ کے بڑے محفوظ جنگلاتی علاقوں میں شمار ہوتا ہے اور یہاں ہاتھی، سیاہ گینڈے اور چیتوں سمیت مختلف جنگلی حیات پائی جاتی ہے۔

منصوبے کے فعال ہونے کے بعد پن بجلی تنزانیہ کی مجموعی بجلی پیداوار کا تقریباً 60 فیصد بن گئی ہے، جبکہ قدرتی گیس بھی ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

 
 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں