5

ایرانی صدر سے سپیکر اورعدلیہ کے سربراہ کی ملاقات ، معاشی دباؤ سے نمٹنے کی حکمت عملی پر غور

(24نیوز)ایران کے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژہ ای کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف معاشی دباؤ بڑھانے کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور اس سے نمٹنے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق تینوں حکومتی شاخوں کے سربراہوں نے ملک کو درپیش تازہ سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال کا جائزہ لیا اور مختلف ریاستی اداروں کے درمیان مزید بہتر اور مؤثر رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ معاشی دباؤ کے اثرات کو عوام کی زندگیوں پر کم سے کم رکھا جا سکے۔

ملاقات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ایسے عملی اقدامات کیے جائیں جن کے ذریعے کمزور اور کم آمدنی والے طبقات کو مؤثر مدد فراہم کی جا سکے اور ہر صورت قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران دشمن کے سامنے ذلت آمیز انداز میں نہیں جھکے گا، تاہم مسائل کے حل کے لیے بیٹھ کر بات چیت کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

صدر پزشکیان نے کہا کہ رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی ملاقاتوں اور تقاریر میں عوامی طور پر اس بات پر زور دیا تھا کہ ملک کو نہ جنگ، نہ امن کی موجودہ کیفیت سے باہر نکلنا چاہیے،ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے فیصلے حکمت، تدبر، دانشمندی اور وقار کی بنیاد پر کرنا ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کینیڈا کا امریکا پر 50 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان

ایرانی صدر کے مطابق ملک کو درپیش معاشی اور سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی اتحاد، اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور عوامی مشکلات میں کمی کو ترجیح دینا ضروری ہے، ایران کو جنگ اور معاشی دباؤ کے باعث بڑھتے ہوئے داخلی معاشی مسائل کا بھی سامنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں